12 اپریل 2015 - 12:26
اسرائیلی طرز پر مہاجر پنڈتوں کے لئے ہوم لینڈ قائم کرنے کے خلاف کشمیر بھر میں احتجاج

مائیگرنٹ پنڈتوں کیلئے علیحدہ ٹاون شپ قائم کرنے کے خلاف حریت کانفرنس کے تینوں دھڑوں اور لبریشن فرنٹ کی جانب سے دی گئی ہڑتال کال کے نتیجے میں ہفتہ کے روز پوری وادی میں نظام زندگی ٹھپ ہوکر رہ گیا

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سرینگر میں مہاجر پنڈتوں کیلئے اسرائلی طرز پر علاحدہ بستیاں قائم کرنے کے منصوبے کے خلاف ہفتہ کے روز وادی کے طول وعرض میں ہمہ گیر ہڑتال کی گئی جس سے نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ گیا۔ مزاحمتی تنظیموں کی کال پر وادی بھر میں ہر طرح کی دکانیں، کاروباری ادارے، تجارتی مراکز، پیٹرول پمپ، تعلیمی ادارے بند رہے اور سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور غائب رہا جس کے نتیجے میں پوری وادی میں بازار سنسان اور ویران نظر آرہے تھے ۔ ہڑتال کے نتیجے میں سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر میں روزمرہ کا کام کاج متاثر رہا۔ اس سے پہلے اس منصوبہ کے خلاف کشمیر بھر میں زبردست احتجاجی مظاہرے دیکھنے کو ملے جن میں اکثر مقامات پر مظاہرین اور بھارتی نیم فوجی دستوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ۔
کشمیر سے ابنا کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق مائیگرنٹ پنڈتوں کیلئے علیحدہ ٹاون شپ قائم کرنے کے خلاف حریت کانفرنس کے تینوں دھڑوں اور لبریشن فرنٹ کی جانب سے دی گئی ہڑتال کال کے نتیجے میں ہفتہ کے روز پوری وادی میں نظام زندگی ٹھپ ہوکر رہ گیا تاہم شہر سرینگر میں امکانی احتجاجی مظاہروں کو روکنے اور امن کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے حساس علاقوں میں اضافی پولیس و فورسز اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی
تمام علاحدگی پسند جماعتوں نے ریاست میں اس طرح مایئگرنٹ پنڈتوں کے لئے الگ سے  اسرائیلی طرز پر ہوم لینڈ قائم کرنے کے عمل کو ایک منصوبہ بند سازش قرار دیا اور اس سے  جموں کشمیر کے لوگوں کے مذہبی رواداری کے جذبے کو ختم کرنے کے لئے ایک پلان سے تعبیر کیا ہے  لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ مایگرنٹ پنڈت برادری ہمارے بھائی جیسے ہیں لیکن بھارت ریاست جموں و کشمیر کی حکومت سے مل کر کشمیر کو فلسطین بنانے کی کوشش کر رہی ہے جس کے خلاف ہم کسی بھی قسم کا کوئی تساہل نہیں برت سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کے مسلمان پنڈتو ں کو اس سرزمین کا جزولاینفک مانتے ہیں اور اُن کی وطن واپسی ہم سبھی کیلئے باعث مسرت ہوگی لیکن انہیں اسرائیلی طرز پر قائم کی جانے والی بستیوں اور آبادیوں میں بساکر دراصل حکمران انہیں یہاں کی اکثریتی آبادی کے ساتھ ایک نا ختم ہونے والے تصادم میں الجھانے کی فراق میں ہے۔ یہ ایک سازش ہے جس کا مقصد یہاں کے سماجی تانے بانے کو منتشر کرکے یہاں مستقل طور پر لوگوں کے درمیان نفرت اور عداوت کی دیوار کھڑی کردینا ہے ۔ اسی طرح تمام مزاحمتی تنظیموں نے اس منصوبہ کے خلاف احتجاج کرنے کی کشمیری عوام سے اپیل کی تھی جس کا بھاری اثر دیکھنے کو ملا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲